عمران خان نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سعودی عرب قرضے مانگنے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض روانہ ہو گئے اس سرکاری دورے میں سعودی عرب کی حکومت سے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کی درخواست کریں گے اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان ایک سال کے لیے 20 ارب ڈالر مالی اداد دینے کی درخواست کرے گی جس کی سر برایہ خود وزیر اعظم پاکستان عمران خان کر رہے ہیں دفترِ خارجہ کی جانب سے منگل کی شب جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر 10 ارب ڈالر بطور مالہ امداد دینے پر اتفاق کیا ہے 
عمران خان سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کشکول لیے مالی معاونت کی غرض سے ریاض میں موجود ہیں عمران خان کو خود تو اپنی عزت کا احساس نہیں مگر انھیں غیور پاکستانی قوم کی غیرت کا بھی زرا خیال نہ آیا اور سوچے سمجھے بغیر وہ سعودی عرب روانہ ہو گئے جس پر سعودی حکام کو ترس آگیا اور انھوں نے پاکستان کو نہ صرف ایک سال کے لیے 10 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا بلکہ 5 سال تک مؤخر ادائیگیوں پر تقریباً 15 ارب ڈالر مالیت تک کا تیل دینے پر بھی رضامند ہو گیا ہے  دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 10 ارب ڈالر دیے جانے والی مالی امداد سے بیرون ملکی قرضوں کی ادائیگیوں میں توازن لانے میں مدد دیں گے وزیراعظم ہاؤس اعلامیے کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان میں نہ صرف آئل ریفائنری لگانے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ بلوچستان میں معدنیات کی کانوں میں بھی سے معدنیات بھی نکالنے کے لیے کثر رقم فراہم کرے گا اور اس سلسلے میں ان کی حکومت کے 20 ممبران پر مشتمل اعلیٰ وفد کو وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے دورے پر آنے کی دعوت دی ہے  وزیراعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب میں ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیر خزانہ شیخ رشید وزیر اطلاعات معاز احمد اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت آصف علی زرداری بھی شامل تھے پاکستان کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے عمران خان نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے مزید قرض نہیں لینا چاہتے کیونکہ وہ ہم واپس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھے گے اس لیے بہتر ہو گا کہ اسلامی دوست ممالک سے مالی امداد کرنے کی التجا کرنے کا دروازہ کو ترجیح دیں گے اس لیے کشکول لیے مالی معاونت کی غرض سے عمران خان نے وزیراعظم کا بنتے کہ سعودی عرب کا ہی انتخاب کیا تھا کیونکہ مانا جاتا ہے کہ عربوں سے پاس بہت پیسہ اور تیک لے وسیع و عریض زخائر ہیں دورے کے بعد معاز احمد نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب وہ پہلا ملک ہے جسے پاکستان نے پاکستان کی مالی معاونت کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دہے ہیں وہ سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کا خود انتظار کریں گے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے  مزید امدادی پیکج کا واضح اعلان کریں تاکہ بیرون ملکی قرضوں کی ادائیگیوں میں توازن لایا جا سکے